METHODS OF RESOLVING INTERFAITH AND INTRA-FAITH TENSIONS IN BALOCHISTAN IN THE LIGHT OF PAIGHAM-E-PAKISTAN.

بلوچستان میں بین المذاہب و بین المسالک کشیدگی کا حل پیغام پاکستان کی روشنی میں

حافظ محمد طاہر  ؔ:  پی ایچ ڈی

محقق : بلوچستان کونسل فار پیس اینڈ پالیسی

METHODS OF RESOLVING INTERFAITH AND INTRA-FAITH TENSIONS IN BALOCHISTAN IN THE LIGHT OF PAIGHAM-E-PAKISTAN.

تعارف دستاویز  پیغام پاکستان:

پیغام پاکستان دراصل قرآن و سنت اور ۱۹۷۳ء کے متفقہ دستور کی روشنی میں پاکستانی قوم کو مضبوط اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر پیش کرنے  اور قرارداد مقاصد کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے  تیار کیا گیا ہے۔ جوکہ قرآن و سنت اور دستور پاکستان کی روشنی میں ریاست پاکستان کے نظریے کی عکاسی ہے۔ پیغام پاکستان کی دستاویز ایک اسلامی فلاحی ریاست جہاں پر آپس کی رواداری عدل و انصاف اور برابری کے حقوق سے سے آراستہ ایک ریاست کی کی تشکیل میں معاون و مددگار ثابت ہوسکتا ہے

یہ یہ دستاویز پاکستان کے بڑے مدارس اور بڑے جامعات کے تعاون سے تشکیل پایا ہے جس کی تیاری میں جید علماء کرام و مفتیان عظام اور سکالرز نے حصہ لیاہے۔

پیغام پاکستان کا مسودہ ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے محققین نے 26 مئی 2017 کو اس وقت کے صدر پاکستان جناب ممنون حسین کی خدمت میں ایک قومی کانفرنس میں پیش کیا گیا۔

جس کے بعد علماء اکرام اور مفتیان عظام نے اس کی روشنی میں ایک متفقہ اعلامیہ اور فتوی  بھی جاری کیا کیا جسے اس کا حصہ بنا دیا گیا ۔ اب یہ دستاویز ریاستِ پاکستان کی منظوری سے ایک بنیادی قومی لائحہ عمل کے طور پر عمل درآمد کے لیے شائع کی جاتی ہے۔

یہ مقالہ بنیادی طور پر تین حصوں ہر مشتمل ہے۔جس میں اولا اس مقالہ میں اس بات کو زیر بحث لایا گیا ہےکہ بلوچستان میں بین المذاہب و بین المسالک  کشیدگی کے اسباب اور پیغام پاکستان کی روشنی میں ان کے مابین ہم آہنگی کے فروغ کےلئے کون سے اقدامات لازم ہے جس سے بین المذہب و بین المسالک کشیدگی کا تدارک  ممکن ہوسکے۔

 حصہ اول

(بین المذاہب و بین المسالک  کشیدگی کے اسباب اور پیغام پاکستان)

دین اسلام کا آفاقی بین المذاہب بین المسالک ایک سنہری پیغام ہے کہ قوموں کو ان کی قومیت اور خصوصیات کے ساتھ برقرار رکھ کر ان کے درمیان تہذیب و اخلاق اور عقائد و افکار کا ایک ایسا رشتہ قائم کر دیا جائے جس سے قوموں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی ،رکاوٹیں ظلم اور ہر قسم کے تعصبات دور ہوجائے اور ان کے درمیان تعاون باہمی پر مشتمل برادری جیسے تعلقات استوار ہو جائے۔ اسلام کے تصور بین الاقوامیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بین الاقوامیت کے مفہوم میں قوموں کی امتیازی خصوصیات کو منہدم کر دیا جائے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اور مولانا عبیداللہ سندھؒی بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام ایک قومی مزاج رکھتا ہے ۔اور اس کی روح بین الاقوامیت پر قائم ہے لیکن اسلام کے قومی مزاج رکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک قوم اپنی قومیت کے ذہن میں دوسری قوم کو حقیر یا   ذلیل سمجھے۔ دراصل قومیت سے مراد تویہ آداب وفضائل ہے جو کسی ایک اجتماعیت کا شعار بن گئے ہو اور ان کی وجہ سے دوسری جماعتوں یا قوموں سے ممتاز ہو گئی ہو             1؎

 لہٰذا اسی بین الاقوامیت جس میں مختلف قوموں کے درمیان اخلاق اور عقائد و افکار کے ایسا رشتہ قائم ہوجائے کہ ان کے آپس کے ہر قسم کے تعصبات ختم ہوجائے اور باہمی برادری جیسے تعلقات پیدا ہو جائے تو اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ناقابل اصلاح شریر لوگ قابو میں آ جائیں گے پھر انہیں یہ موقع نہیں ملے گا کہ ایک ملک میں بیٹھ کر دوسرے ملک کے لوگوں کے خلاف سازشیں کرتے رہے اس کا نتیجہ کیا ہوگا کہ تمام نوعِ انسان کو مختلف المذاہب اور مختلف اقوام ہوتے ہوئے بھی امن کی راحت نصیب ہو گی جو ان کی دنیاوی اصلاح اور مرنے کے بعد بھی کامیابی کی کفیل ہوگی اگر غور کیا جائے تو قرآن پاک کے پیغام

قل يااهل الكتاب تعالوا الى كلمه سواء بيننا وبينكم               

کا خلاصہ فلسفہ اور مطالعہ بھی یہی ہے کہ ہر قوم بے شک اپنی جگہ پر قوم رہے لیکن کل انسانیت کے درمیان امن عام انسانیت اور امن و محبت جیسے عناصر کو ایک مشترکہ اکائی قراردے کر ایک اجتماعی اتفاق و اتحاد کی بنیاد مان لیا جائے اور اس کے بعد ایک ایسا بین الاقوامی رشتہ قائم کر لیا جائے جس میں تمام برائیوں کا خاتمہ ہوجائے ۔تنازعات کا منصفانہ حل ہو ،پسماندہ طبقات کا تحفظ ہو ،بین الاقوامی تجارت کا افروغ ہو، صلح و امن کے معاہدات ہوں،مذہبی رواداری کی فضا قائم ہو ،دولت کی منصفانہ تقسیم ہو اور یہ دنیا جنۃ الارض کا نمونہ بن جائے۔

اور پھر اسی آیات کریمہ کا مصداق اس ملک پاکستان کے میں دستورپاکستان کی بعد تمام علماء و مشائخ کا متفقہ اعلامیہ پیغام پاکستان ہے کہ جس میں تمام اختلافات سے بالاتر ہوکر امن  فی الارض کے لئے ،قوم کے اتحاد کے لئے، قوم کے اتفاق کے لیے اور آپس کی عداوت و نفرت اور دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک ایسا دستاویزی نمونہ پیش کیا گیا ہے جس پر عمل کے ذریعے سے سے دنیا میں  نہ صرف پاکستان بلکہ اقوام عالم  کا امن مثالی ہوجائےاور صوبہ بلوچستان جو اکثر وبیشتر ان مذہبی ومسلکی کشیدگی کا شکار ہوتا ہے وہاں اس پیغام پاکستان پر عمل کی صورت میں میں تمام مذاہب و مسالک  کا احترام خود بخود سامنے آ جاتا ہےچونکہ دستور پاکستان کی بنیاد بھی اسلام پر ہے ،اوراسلام کی راہ اعتدال کی راہ ہے ہر چیز میں اعتدال ۔ تصور اور عقائد  ،عبادت اور زہد ، اخلاق اور رویہ ،معاملات کا نام اللہ تعالی نے” صراط مستقیم “رکھا ہے یہ راہ ان دینی  اور فکری گروہوں کی راہ سے الگ ہے جن پر اللہ کا غضب ہوایا جو راہ پانے کے بعد کھو بیٹھے اور ان کی راہوں پر غلو اور افراط و تفریط کی چھاپ پڑی ہوئی ہے اسلام کی عمومی خصوصیات میں میانہ روی اور اعتدال پسندی ایک اہم ترین خصوصیت ہے اسلام کی بنیادی نشانیوں میں یہ وہ اہم نشان راہ ہے جس پر اللہ نے دوسری ملتوں کے مقابلے میں امت مسلمہ کا وصف قرار دیا ہے ہے ارشاد الہی

وکذلک جعلنکم امۃ وسط لتکونو شھداء علی الناس۔            3؎

اور اسی طرح ہم نے تم مسلمانوں کو امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ رہو

حضرت مفتی محمد شفیع اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں

اس میں امت محمدیہ امت وسط یعنی معتدل امت فرماکر یہ بتلا دیا کہ انسان کا جو ہر شرافت و فضیلت بہت میں بدرجہ کمال موجود ہے اس کا فرض بھی اور قومی شان یہ ہے کہ لوگوں کو نیک کاموں کی ہدایت کریں اور بدی کے کاموں سے روکے ایک حدیث مبارکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادمبارک الدین النصیحہ کا یہی مطلب ہے کہ برے کاموں میں کفر ،شر ک، بدعات رسوم قبیحہ ،فسق وفجور اور ہر قسم کی بداخلاقی  اور نامعقول باتوں سے روکنا ہوگا  سب سے پہلے اعتقادی اور نظری اعتدال کو لیجئے تو پچھلی امتوں میں ایک طرف تو یہ نظر آئے گا کہ رسولوں کو اللہ کا بیٹا بنا لیا اور ان کی عبادت اور پرستش کرنے لگے  “وقالت الیھود عزیر ابن اللہ وقالت النصاری المسیح ابن اللہ”   اور دوسری طرف جب رسول ان کو جہاد کی دعوت دیتا ہے تو کہتے ہیں ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھنا قاعدون”   اس کے برعکس امت محمدیہ میں یہ اعتدال ہے کہ رسول اور خدا کو اس کا مقام دیتے ہیں اور اسی طرح عمل اور عبادات میں غلو اور فتوے اور ترک رہبانیت۔امت محمدیہ نے اس کے برخلاف ان غلو آمیز کاموں سے اجتناب کیا اسی طرح معاشرتی اور تمدنی اعتدال بیٹیوں کو زندہ درگور کر دینا جانوروں کے ذبحیہ کو حرام قرار دینا وغیرہ امت محمدیہ نے اور شریعت نے ان بے اعتدالیوں کا خاتمہ کیا  “لتکونوا شہداء علی الناس”   یعنی امت محمدیہ کو وسط اور عدل و ثقہ اس لیے بنایا گیا یا کہ یہ شہادت دینے کے قابل ہو جائے اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص عادل نہیں وہ قابل شہادت نہیں       4؎

اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا ہمیشہ مختلف النوع افراد ،مختلف مذاہب اور اکثر و بیشتر متضاد نظریات کی حامل اقوام پر مشتمل رہی ہے ۔یہ ممکن نہیں کہ ساری نوع بشر ایک ہی مذہب اور ایک سے خیالات کی حامل ہو ۔اگر کوئی اپنے نظریہ کو نافذ کرنے پر جبر کرے اور صرف اپنے عمل کو وجہ سے ثواب ٹھہرا کر دوسروں سے قطع تعلق کر لے تو تصادم ناگزیر ہے۔

نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔باہمی رواداری اور باہمی امن کے اصول انسانیت کو دیئے۔اپنوں سے موانست کے جذ بات پروان چڑھانے کے لئے “مواخات “کا سنہری اصول اپنایا ۔جس سے اتحاد ویگانگت کی فضاءقائم ہوئی۔ غیروں کو عالمی امن کا پیغام دینے کے لیے ایسا نظام  مدینہ میں نافذ کیا جس میں اپنا بھی تحفظ تھا اور یہود جیسی معاند قوم کابھی۔لليهود دينهم کا جملہ اتحاد بین المذاہب اور عالمی امن کے ہزار اصولوں پر بھاری تھا ۔اس قدرآزادی کون عطاء کر سکتا ہے۔ دور حاضر گواہ ہے کہ ایسا حوصلہ بڑے بڑے سربراہان سلطنت کو بھی نصیب نہیں۔ اصل میں غیروں کو امن و سکون کی ضمانت صرف وہی دے سکتا ہے ۔جو دوسروں کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ عقیدہ مضبوط ہو، نظریات کے بارے میں ایقان ہوتو دوسروں کے ساتھ نباہ میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی ۔اس لیے بےیقینی ہی شک کو جنم دیتی ہے اور شک باہمی تعلقات میں زہر گھولتا ہے۔ آپ نے نظریات اس قدر پختہ کیے کہ ہر ایمان لانے والا غیروں کے حصار میں بھی زندہ رہنے کا حوصلہ پانےلگا۔ اس حوصلےنے اعتماد پیدا کیا اور یہ اعتماد دوسروں کو جینے کا حق دینے پر تیار رہا اور اسی طرح ایک عالمی امن کی بنیاد پڑی۔

اس عالم آب و گل میں کوئی چیز بغیر سبق کے نہیں ہوئی اس کے پیچھے کچھ اسباب و محرکات ہے کوئی سبب بغیر سبب کے پیدا نہیں ہوتا اللہ کا یہی قانون ہے اس کائنات میں جاری و ساری ہے ایسے حالات میں ان اسباب کاجاننا بہت اہمیت رکھتا ہے ہم ان اسباب و محرکات کا جائزہ لیتے ہیں جنہوں نے دین میں مسلکی و مذہبی کشیدگی کو اس منزل پر پہنچایاہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ اس  مذہبی ومسلکی کشیدگی کا کوئی ایک سبب نہیں بلکہ لاتعداد انواع و اقسام ہیں ان میں سے کچھ اسباب دینی، سیاسی ،سماجی  بھی ہے کچھ نفسیاتی اور کچھ صفات و اسباب ایسے ہیں جنہیں ان سب کا مرکب قرار دیا جاسکتا ہے ہے ،ان میں سے چند ایک اسباب مندرجہ ذیل ہیں:

1:۔دینی بصیرت کا نہ ہونا:

دینی بے بصیرتی ,حکمت دین اور مقاصد کے سلسلے میں بے بضاعتی اور روحدین سے دوری  مذہبی و مسلکی کی تشدد اور کشیدگی کا بنیادی سبب ہے لیکن انسسے مراد دین سے مکمل بے خبری  نہیں بلکہ بے خبری اور جہل مطلق سے کشیدگی کا جذبہ ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس سے اخلاقی گراوٹ اور شریعت سے آزادی کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے

یہی لوگ اصل میں دین میں شدت اور کشیدگی پیدا کرنے والے ہیں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حدیث میں وارد ہواہے

لایقبض اللہ العم انتزاعا ینتزعہ من الناس ولکن یقبض العماء حتی اذالم یبق العلم ااتخذا الناس روسا جھالا فسئلوافافتوابغیر       5؎

لوگوں پر دشوار یہ علماء کی طرف سے نہیں آئیں گی بلکہ ان لوگوں کی طرف سے آئیں گی جو علم کے بغیر فتوی دیں گے یہی لوگ عوام کے لئے مصیبت بنے گے

جب ناقص اور ادھورے علم کے ساتھ خود پسندی اور فریب نفس میں شامل ہوجائے تو وہ اس جہل مطلق سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے جس میں جہل کا اعتراف بھی پایا جاتا ہے۔      6؎

2:۔قرآن فہمی میں کمی:

قرآن فہمی میں کمی ایک ایسا اہم اور بنیادی سبب ہے جو کہ فہم دین کے سلسلے میں انتہا پسندی اور انحراف کا باعث اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ محکمات کو چھیڑ کر متشابہات کی اتباع میں لگے رہتے ہیں جب کہ یہ شیوہ راسخین فی العلم کا نہیں ہوتابلکہ ان  لوگوں کا طریقہ جن کے دلوں میں ٹیڑھ پائی جاتی ہے

فیتبعون ماتشابہ منہ البتغاالفتنۃوابتغا تاویلہ      7؎

حصہ دوم:

(بین المذاہب کشیدگی کاحل)

غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا احترام:

اسلام جس نظام حیات کا داعی ہے اس میں نہ صرف دیگر ادیان و مذاہب کو مکمل آزادی دیتا ہے بلکہ سیاسی نظام اور معاشرتی ماحول میں ان کی حفاظت کا احترام بھی کرتا ہے۔ اگرچہ ایک حلقےکی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو توڑا اور انہیں منہدم کر کے رکھ دیا اس بات کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں  ہے۔اسلام تو دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام اسی طرح کرتا ہے جس طرح اپنی عبادت کا مسجد کا چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

ولولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع وبيع وصلوات ومساجد يذكر فيها اسم الله كثيرا         8؎

اگر اللہ تعالی لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے دفع نہ کرتا تو خانقاہیں ،گر جے،عبادت گاہیں اور مساجد جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے سب منہدم کردیئے جاتے۔

سید جلال الدین عمری لکھتے ہیں

عبادت گاہوں کا گرانااسلام کے نزدیک سراسر ناروا اور ظالمانہ عمل ہے ۔وہ انہدام کا ناصرف مخالف ہیں بلکہ وہ دوسری عبادت گاہوں کی بھی اسی طرح حفاظت چاہتا ہے جس طرح مساجد کی چاہتا ہے۔              9؎

اسلام کا بنیادی نظریہ حیات تمام دیگر ادیان میں صرف آزادی دینا ہی نہیں بلکہ سیاسی نظام اور معاشرتی ماحول میں ان کی مکمل حفاظت کا انتظام بھی ہے۔ فلسطین کی فتح کے وقت عین نماز کے موقع پر اگرچہ بطریق نے آپ کو گرجا میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی لیکن آپ نے مستقبل میں گرجے کو مساجد میں جواز بنانے کے پیش نظر نماز ادا نہیں کی۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں ایک عیسائی وفد کے اراکین کو عبادت کرنے کی اجازت دی۔ اس پر انہوں نےکہاکہ ہماری عبادت میں موسیقی کا استعمال ہوتا ہے ،اور ممکن ہے آپ کے خیال میں مسجد میں چیز مناسب نہ  ہو لیکن اس کے باوجود آپ نے ان کو اپنے طرز پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی کیا کوئی ایسا روادار فراخدل پیغمبر دوسرے مذاہب و عقائد کے خلاف کسی قسم کی سختی اور تنگ نظری رکھ سکتا ہے۔        10؎

راجہ داہر کے زمانے میں محمد بن قاسم نےجب فتح حاصل کی تو اس وقت محمد بن قاسم نے ہندوؤں کی مذہبی عبادت گاہوں کے سلسلے میں اعلان کر دیا کہ ان کے مندروں اور عبادت خانوں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی                11؎

شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے حاکم بنارس ابوالحسن کے نام اپنے خط مورخہ 25 جمادی الاول 1065ء میں تحریر فرمایا:

ہمارے پاس شریعت اور سچے مذہب کی رو سے یہ ناجائز ہے کہ غیر مذہب کے قدیم مندروں کو گرایا جائے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ہندوؤں کے مذہبی معاملات میں دخل دیتے ہیں ۔لہذا یہ حکم دیا جاتا ہے کہ آئندہ کوئی شخص ہندوؤں اور برہمنوں کو کسی جگہ سے بھی تنگ نہ کرے۔              12؎

انسانی وحدت واخوت:

اسلام نے ہر طرح کی تفریق کے خاتمے کے لیے وحدت انسانی کا تصور دیا ہے وہ کہتا ہے

كونوا عباد الله اخوانا         13؎

اے اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ

اس کی تشریح میں علامہ نووی فرماتے ہیں

تعاملوا و تعاشروا معامله الاخوه ومعاشرتهم في الموده والرحمه والشفقه والملاطفۃ والتعاون في الخير ونحو ذلك مع صفاء القلوب والنصيحه بكل حال   14؎

اسی طرح اس کا مقصد یہ ہے کہ بے جاء انسانی تفریق اور مصنوعی حد بندیاں ختم ہو جائے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

الخلق عيال الله فاحب الخلق الى الله من احسن الى عياله 15؎

ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے تو وہی شخص اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو گا جو اس کے عیال کے ساتھ حسن سلوک کرے گا۔

غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا سے تشریف لے جاتے ہوئے آکری بات جو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کے جان ومال اور آبروکی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اس پر آنچ نہ آنے دینا            16؎

فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کے پیاسے دشمنوں کو معاف فرمایا آپ نے قتل کے لیے آنے والے قاتلوں کو بار بار چھوڑ دیا اور فرمایا:  لاتثریب علیکم الیوم ،اذھبوفآنتم الطلقاء        17؎

اسلامی حکومت کا فریضہ ہے کہ آپ نے اپنے ہاں بسنے والے تمام غیر مسلموں کی جان و مال عزت و آبرو اور مذہبی آزادی پر حرف نہ آنے دے اور جس طرح بھی ممکن ہو ان کی خبر گیری کرے ان کے تحفظ کااحساس پیدا کرے۔گو ان کا مذہب حکومت کے مذہب کے خلاف ہے، ایسا کبھی نہ ہو کہ مذہب کا اختلاف ظلم و جبر کے ذریعہ بن جائے اور خدا کے یہ بندے اسلام کے انصاف اور مساوات سے محروم رہ جائیں۔     18؎

یہ تمام باتیں محض دعویٰ نہیں ہے اسلام کی پوری تاریخ عملی طور پر اس کی گواہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و حدیث کی واضح دلیل ہے آپ نے غیر مسلم کے ناحق قتل پر شدید ترین وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا:

من قتل معاهدا لم يرح رائحه الجنه وان ريحها ليوجد من مسيره اربعين عاما         19؎

جو شخص اس غیر مسلم کو قتل کرے گا جس سے معاہدہ ہو چکا ہے وہ جنت کی بو سے بھی محروم رہے گا اور بلاشبہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت تک پہنچتی ہے

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں یعنی ذمیوں اور مسلمانوں کے حقوق بالکل برابر ہیں ان میں ذرا فرق نہیں نہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں

انما ابدل الجزيه لتكون دمائهم كدمانناواموالهم کاموالنا          20؎

غیر مسلموں نے جزیہ اسی لئے ادا کیا ہے کہ ان کا خون ہمارے خون کے برابر اور ان کا مال ہمارے مال کے برابر ہوجائے

بس صرف یہی نہیں بلکہ اگر کسی مسلم معاشرے میں ان کے حقوق کی تلفی ہوئی تو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم روز قیامت ان کی جانب سے استغاثہ فرمائیں گے فرمان نبوت ہے

الا من ظلم معاهدا او انتقصه او كلفه فوق طاقته او اخذ منه شيئا بغير الطيب نفس فان حجيجه يوم القيامه         21؎

سنو جو کسی معاہدے پر ظلم کرے گا اس کے حقوق میں کمی کرے گا یا اسے طاقت سے زیادہ تکلیف دے گا یا اس کی کوئی چیز اس کی مرضی کے بغیر لے گا تو میں قیامت کے دن اس کی طرف سے مستغیث بنوں گا

یہی وجہ ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کے ساتھ ہر طرح کی کشیدگی کا خاتمہ چاہتا ہے اور اعتدال پسندی اور آپس کی محبت کو فروغ دیتا ہے اسی سلسلے میں واضح اور اہم اقدامات کیے جاتے ہیں ۔اور ان میں سے چند ایک اقدامات یہ ہے:

1:۔مذہبی آزادی:

اسلام مذہبی آزادی دیتا ہے اور ہر طرح کے تشدد اور کشیدگی کی ممانعت کرتا ہے اسلام میں اس قدر آزادی ہے کہ وہ مسجد جو خالصتامسلمانوں کی عبادت گاہ کوغیرمسلموں کے قیام وعبادت کو منع نہیں کرتا ۔علامہ ابوبکر جصاص لکھتے ہیں

ولم يكن اهل الذمه ممنوعين من هذه المواضع            22؎

ان مقامات (مساجد)میں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع نہیں  ہے

2:۔فکری آزادی:

اسلام فکری آزادی کبھی قائل ہے اگرچہ یہ آزادی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے مگر یہ شرائط بھی انسان کی اہلیت فکر  اور حریت عمل کو برقرار رکھنے کے لیےہیں، اس لیے بھی فکری آزادی کا درس دیتا ہے کہ فکری محدودیت بھی کشیدگی کو جنم دیتی ہے اسلام اس کے مقابل فکری آزادی کی یہ کہہ کر تلقین کرتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے

ولو شاء ربك لامن من في الارض كلهم جميعا افانت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين 23؎

اور اگر آپ کارب چاہتا تو روۓ زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے کہ وہ ایمان لے آئے

3:۔ظلم کی ممانعت:

مذہب کی کشیدگی خواں کس نوعیت کی ہو اس کا انجام ظلم و جبر ہوتا ہے نظم کے نقصانات اس سے بھی کہیں زیادہ اور کثیر الجہت ہیں اس لئے اس کی ممانعت فرمائی گئی قرآن حکیم میں فرمایا گیا

وما للظالمين من نصير              24؎

اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات يوم القيامه           25؎

ظلم سے بچو کیونکہ ظلم روز قیامت اندھیروں کی صورت میں ہوگا

4:۔دین میں زبردستی کی ممانعت:

اسلام میں زبردستی کرنے اور جبرن کسی کو مسلمان کرنے کی کوئی صورت نہیں اسی لئے کہ اسلام صرف ظاہری اعمال کا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قلوب واذہان کی مکمل فرمانبرداری کا نام ہے قرآن حکیم میں فرمایا گیا

لا اكراه في الدين     26؎

دین میں زبردستی نہیں

5:۔دیگر مذاہب کے معبودان کو بھی برا کہنے کی ممانعت:

اسلام ہرمذہب کا احترام کرتا ہے اور ہر ایک کے احساسات کا مکمل خیال رکھتا ہے اور کسی کو برا بھلا کہنے اور سب و شتم کرنے کی اجازت نہیں دیتا قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے

ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدوا بغير علم          27؎

اور تم ان کی معبودوں کو جنہیں وہ خدا کے سوا پکارتے ہیں برا مت کہو کیونکہ پھر وہ بغیر سمجھے اللہ کو برا کہنے لگے گے۔

ان تمام مباحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مذہبی کی کشیدگی کے سلسلے میں میں اسلام کوئی رہ نہیں دیتا اور جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اس کے پاس کشیدگی کا کوئی تصور نہیں اس کی تعلیمات ہمہ جہت بھی ہیں اور اعتدال پسندانہ بھی ہیں اور کشیدی کی اصطلاحات مغرب کی وضع کرتا ہے جس سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔

مذہبی رواداری:

اسلام میں مذہبی رواداری کے بارے میں وہ اسلامی بنیادیں ہیں جن پر ہماری تہذیب کی عمارت اٹھی  ہے یہ اصول ہر مسلمان کے لیے ضروری ہیں کہ وہ اللہ تعالی کے تمام انبیاء و رسول پر ایمان لائیں اور ان تمام کا تذکرہ عظمت و احترام سے کریں ۔ ان میں سے کسی نبی کے پیروکاروں پر کوئی زیادتی نہ کرے ۔ان کے ساتھ معاملات اور تعلقات اچھے رکھے، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے نرمی سے بات کرے ،ان کا ایک اچھا پڑوسی ثابت ہو ان کی ضیافت کوقبول کرے ، اسلام نے اسلامی حکومت پر یہ بھی فرض کیا ہے کہ وہ ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرے ان کے عقائد میں مداخلت نہ کرے کسی مقدمہ کے فیصلے میں ان پر زیادتی نہ کرے اور عام حقوق  اور فرائض کے باب میں ان کو مسلمانوں کے مساوی درجہ دے ان کی کی زندگی ان کی آبرو اور ان کے مستقبل کی حفاظت کی اس طرح ضمانت دے جس طرح وہ ایک مسلمان کی زندگی اس کی آبرو اس کے مستقبل کی حفاظت کی ضمانت دیتی ہے ۔

بعض اہل کتاب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوسی بھی تھے آپؐ ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے تھے ان کو ہدیہ بھیجتے تھے ان کے ہدیہ قبول فرماتے ان کے ساتھ ایک اچھے پڑوسی جیسے تعلقات رکھتے تھے ۔

 جب حبشہ کے عیسائی مدینہ طیبہ ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور ان کی مہمان نوازی اور خدمت خود اپنے ذمہ لی اور آپؐ نے فرمایا :

یہ لوگ ہمارے ساتھیوں کے لیے معزز حیثیت رکھتے تھے اس لیے میں نے پسند کیا کہ میں بذات خود ان کی تعظیم و تکریم کرو  28؎

ایک دفعہ نجران کے عیسائیوں کا وقت آیا اس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ٹھہرایا ان کو اجازت دی کہ وہ اپنی نماز اپنے طریقہ پر مسجد نبوی میں ادا کرے چنانچہ وہ لوگ مسجد نبوی کی ایک جانب اپنی نماز پڑھتے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ دوسری جانب نماز پڑھتے جب ان لوگوں نے اپنے دین کے حق میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت توجہ سے ان کی بات سنی اور بڑی نرمی ،احترام اور حسن اخلاق سے بحث کا جواب دیا ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقوقس کا ہدیہ قبول فرمایا اور اس کی بھیجی ہوئی ماریہ قبطیہ کو بھی قبول فرمایا جو ام المومنین بنیں ۔ان کے بطن سے آپ کے صاحبزادے ابراہیم پیدا ہوئے جو چند مہینے زندہ رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتوں میں سے ایک یہ بھی ہے:

قبطیوں کے خیر خواہ رہوکیونکہ ان میں تمہارے رشتے ہیں   29؎

مکالمہ بین المذاہب:

بین المذاہب مکالمات ﷺکی سیاست خارجہ کا بنیادی اصول رہا ہے۔ یہ داعی امن کے طرز عمل کے عکاس بے شمار واقعات میں سے سفر طائف ،ہجرت حبشہ ،ہجرت مدینہ اس کا واضح ثبوت ہے ۔جب قرآن نے ساتویں صدی میں یہ اعلان کیا تو دراصل یہ سنجیدہ مکالمہ کی دعوت تھی:

قل یااہل الکتاب تعالو االی کلمۃسواء    ۔۔۔الخ             30؎

اے اہل کتاب آو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہیں یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

پیر محمد شاہ کرم الازہری اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

انسانیت جو آجکل مختلف اور مخالف گروہوں میں میں بٹ کر رہ گئی ہے جس کے باعث گلشن ہستی جہنم زار بن گیا ہے اس کے اتحاد کی حقیقی اورمْحکم بنیاد عقیدہ توحید ہی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے لئے اہل کتاب کو دعوت دی        31؎

صلح حدیبیہ کے بعد داعی اعظم سرکار دو عالم ﷺ نے قیصر روم ،شہنشاہ عجم،عزیز مصر اور رؤسا عرب کے نام  دعوت اسلام نام کے خطوط ارسال فرمائے۔بتصریح ڈاکٹر محمود احمد غازی:

اسلام کے قانون بین الممالک کے مقاصد میں دنیا میں عدل و انصاف کا قیام ،خارجہ پالیسی میں دعوت اسلامی کی تسہیل وترجیح، اعلائےکلمۃ اللہ، دنیا میں میں امن و سلامتی کا قیام، اسلامی ریاست کا استحکام اور مسلم اقلیتوں کا تحفظ شامل ہے          32؎

علامہ ابو الاعلی مودودی نے لکھا ہے

اس سلسلے میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ ملت اسلامیہ اور اسلامی ریاست کی حیثیت پوری دنیا کے سامنے خدا کی شریعت کے علمبردار اور اس کے پیغام کی داعی کی ہے۔ قرآن اس امت کو” امت وسط “کہتا ہے اور اس کے منصب کو” شہادت حق “سے تعبیر کرتا ہے۔ اس لئے” اسلام” میں” سیاست خارجہ” کا پہلا اصول یہ قرار پاتا ہے کہ یہ اسلام کے مبلغ اور حق کی شہادت دینے والی ہے اور یہ کوئی ایسا رویہ اختیار نہیں کر سکتی جوکسی طرح اس کی حیثیت کو مجروح کرنے والا ہوں    33؎

یہی سبب ہے کہ قرآن نے مجادلہ بالتی ھی احسن کی تعلیم دی ہے جیسا کہ فرمان الہی ہے:

ولا تجادلوا اهل الكتاب الا بالتي هي احسن 34؎

 مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ سے جو اچھا ہے

آج عالمی مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت کا احساس فروغ پا رہا ہے یہ مکالمہ عالمی مذاہب کے علماء و سکالرز کے درمیان ہونا چاہیے  اس لیے کہ علمائے مذہب اور مسائل کا بہترین ادراک و شعور رکھتے  ہیں۔ امن بذریعہ مکالمہ بین المذاہب کی کوشش کی جانی چاہئے ۔

حصہ سوم

(بین المسالک کشیدگی کا حل)

منبر ومحراب سے پیغام پاکستان کے ذریعے بین المسالک احترام کو عام کرنا:

اسلاف اور صحابہ کے دورمیں منبر و محراب ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جہاں سے معاشرے کی اصلاح ہوتی تھی کہ اس مقام سے تجارت و زراعت ،آپس کی لین دین اور دیگر امورکے حوالے سے بھی گفتگو ہوتی تھی اور تمام معاشرتی امور سے متعلق بھی ساری باتیں اس منبرومحراب سے طے  کی جاتی تھی لوگوں کے درمیان اور محبت کے فیصلے بھی یہی ہوتے تھے مطلب یہ کہ مساجد کا منبر ومحراب معاشرے کی اصلاح کے لیے خاص مرکز تھا یہاں سے ملنے والی ہدایت کو من و عن قبول کیا جاتا تھا ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ معاشرتی اصلاح اور کردار سازی میں اس منبرکی خاص حیثیت تھی

اور یہی وجہ تھی کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اذاقلت لصاحبک یوم الجمعۃ انصت والاما م یخطب فقد لغوت    35؎

اگر امام کے خطبہ کے دوران آپ نے اپنے ساتھی سے اتنا کہا کہ چپ ہو جاؤ تو آپ نے غلط کام کیا

احادیث مبارکہ سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ منبر و محراب سے نکلی ہوئی بات کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر اہمیت دیں اوراس بات کو کتنے غور اور فکر کے ساتھ کتنی توجہ کے ساتھ سننے کا حکم دیا

منبر و محراب (مسجد) ہی کا ایک اہم اور حساس مقام ہے جہاں سے لوگوں کو ان کی معاشرتی و سماجی مذہبی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے  دورخلافت راشدہ میں اس کی خدمات کافی وسیع تھیں خلیفہ وقت خطاب منبر سے ہی کرتا تھا یہی سے ریاست کی نئی پالیسیوں کے بارے میں رعایا کو آگاہ کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ جب ریاست کی ذمہ داران اس منصب سے دور ہوتےگئے اور خدمات کی وسعت ختم ہوتی چلی گئی تو پھر یہ منبران مذہبی لوگوں کے ذمہ رہ گیا۔

 ہمارے اس دور میں کئی مساجد کی صورتحال انتہائی ناگفتہ ہے جہاں سے معاشرتی اصلاح کی باتوں کو چھوڑ کر آپس کے فقہی اختلافات مسلکی اختلافات کو شروع کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں اجتماعیت اور اتحاد کی فضا ختم ہوتی جارہی ہے اور معاشرے کے اندر فرقہ واریت مسلکی شدت پسندی  بڑھتی چلی جارہی ہے۔

لہذا اس منصب کے لوگوں کو “پیغام پاکستان” کا مکمل مطالعہ اور اس حوالے سے تربیتی نشست کروائی جائے اور انہیں اس بات کا پابند کیا جائے کی اگر وہ منبر ومحراب پر ایسی کسی بھی اختلافی یا توہین آمیز بات کو پھیلائے گے یا کسی بھی مسلک کے محترم شخصیات کی توہین کرے گے تو اس پر ان کی گرفت ہوسکتی ہیں اور تمام مسالک کے علماء ایسے شخص کی کسی قسم کی کوئی تائیدبھی نہیں کرے گے،اور عوام کو بھی اس بات کی آگاہی دی جائے کہ یہ منبر ومحراب ایسے اہل لوگوں کے پاس ہونا چاہیے جن کی حالات حاضرہ پر گہری نظر ہو اور ایسے علماء نہ ہو جو دینی اور سماجی مسائل پر گفتگو نہ کر سکے اور مسلکی اختلافات کو ہوا دے ۔

بلکہ ضروری نہیں کہ مسجد کے اندر سے خطیب ہی خطاب کرے اگر حکومت یا ریاست کا کوئی فرد عوام کی اصلاح اس سے بہتر انداز میں کر سکتا ہے اور اتنا علم رکھتا ہے تو بہتر ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں اور ریاست کے حکم کے مطابق ویسی بات بیان کریں جس سے عام عوام اور ریاست کا بہترین فائدہ ہو سکے ۔

متشدد اور اختلافی لٹریچر جس سے بین المسالک کشیدگی کی راہ ہموار ہوتی ہو پر پابندی:

برداشت ،صلح جوئی، رواداری اور مفاہمتی سوچ سے دوری پیدا کرنے اور اسے فروغ دینے میں کئی کتب و رسائل فرقہ وارانہ سوچ کے حامل جریدے ،انٹرنیٹ پر ایسا مواد،سوشل میڈیا چینلز بڑا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اور متشددلٹریچرو ا سٹیکرزجو مارکیٹ میں وافر تعداد میں سستے داموں دستیاب ہیں ۔جو مختلف مسالک وریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد پر مبنی ہے ۔ان میں دوسرے مسلمانوں کے نظریات کے خلاف انتہائی اشتعال انگیزی پائی جاتی ہے مثلا کفر و شرک کے فتوے اور منافرت پیدا کرنے والی تعلیمات۔

حکومت پاکستان کو چاہیے کہ پیغام پاکستان کی روشنی میں میں ایسی تمام کتب رسائل منافرت پر مبنی لٹریچر اور انٹرنیٹ پر موجود ایسے تمام مواد پر سخت سے سخت پابندی  لگائے اور قوانین کو زیادہ موثر اور قابل عمل بنایا جائے۔کیونکہ قانون  میں سقم کی وجہ سے شرپسندانہ سرگرمیوں کے باوجود بچ نکلتے ہیں۔

دوسری مسالک کی شخصیات اور عقائد کا احترام:

مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار اور مسلکی کشیدگی کا بڑا سبب آپس کی معزز شخصیات اورعقائدکے احترام  کے بجائے ان کی تحقیروتکفیرکا فتنہ ہے یعنی فرقے یا مسلک کا دوسرے کو برداشت نہ کرتے ہوئے ہوئے اس کے متبعین کو کافر قرار دے کر خارج از اسلام سمجھنا ۔

باہمی تکفیرکا یہ فتنہ اتنا وبائی ہے کہ جس کی زدسے آج کوئی مسلمان محفوظ نہیں کیونکہ ہر مسلمان  کاکسی مسلک یا جماعت سے تعلق ہےجو دوسرے کے نزدیک نہ صرف یہ کہ کافر بلکہ مباح الدم اور واجب القتل ہے بعض مفتیوں کے ایسے فتوے بھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو شخص فلاں فرقے اور اس کے فلاں شخص کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے

ایسے ہی فتووں اور مناظروں کی وجہ سے امت مسلمہ اس وقت متحارب گروپوں میں تقسیم ہے اور اس مسئلہ کی وجہ سے امت کو جتنا نقصان پہنچا اور عالمی سطح پر مسلمانوں کو جتنی بدنامی ہوئی اتنی کسی اورمسئلہ کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ یہی وہ فتنہ ہے جس کی وجہ سے آج امت کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں اور انہیں مسلمانوں کے معصوم خون کے ساتھ رنگین کیا جاتا ہے حالانکہ قرآن و حدیث سے جو ہدایت ملتی ہے اس کے مطابق جو شخص ضروریات دین کا انکار نہ کرتا ہواور قبلہ کی طرف  نماز پڑھتا ہوں  اور جتنا بھی گناہ گار اور کبائر کا مرتکب ہو اس کی کسی طرح بھی تکفیر جائز  نہیں۔ مسلمان بڑی سے بڑی ناگوار بات بلکہ گالی تک برداشت کر لیتا ہے لیکن جب اسے کافر کہا جاتا ہے تو وہ کبھی برداشت نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنہ کے سدباب کے لئے بڑی واضح تعلیمات عطا کی ہے:

عن انس قال قال رسول اللہ ثلاثۃ من اصل الایمان الکف عن من قال لاالہ الااللہ ولا تکفرہ بذنب ولا تکرجہ من الاسلام بعمل36؎

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں اصل ایمان ہے ان کا ایمان سے گہرا تعلق ہے ایک یہ کہ جو شخص کلمہ لاالہ الاللہ پڑھتا ہے اس کے متعلق زبان کو روک رکھنا نہ کسی گناہ کی وجہ سے اس کی تکفیر کی جائے نہ کسی برے عمل کی وجہ سے اسلام سے خارج کیا جائے۔

مفتی محمد شفیع صاحب ؒنے اپنی کتاب “جواہرالفقہ “میں ضابطہ کفر کے ذیل میں لکھا ہے اگر کسی خاص شخص یا جماعت کے متعلق حکم بالکفر میں تردد ہو تو خواہ تردد کے اسباب میں علماء کا اختلاف ہو خواہ قرائن کا تعارض ہو تو یہ اصول کاغموس تو اسلم یہ ہے کہ نہ کفر کا حکم لگایا جائےنہ اسلام کا حکم اس کی نظیر وہ ہے جو اہل کتاب کی مشتبہ روایات کے متعلق احادیث میں وارد ہے

لا تصدقو اہل کتاب ولا تکذبوھم وقولوامنا باللہ وما انزل الینا   37؎

یعنی اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب اور کہو ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو ہم اس نے اتارا ہم پر۔ روایات بالا سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسئلہ تکفیر نہایت نازک مسئلہ ہے۔

بقول مولانا مودودیؒ اسلام میں کسی شخص یا گروہ کو کافر کہہ دینے کے معنی یہ نہیں ہے کہ ان کے اعتقاد اور نیت پر حملہ کیا گیا بلکہ اس کے معنی یہ ہے کہ اسلامی معاشرے اور اس کے ایک فرد یا چند افراد کے درمیان برادری ،محبت،معاشرت اور باہمی تعاون کے جتنے تھے سب کاٹ دیے گئے ہیں اور امت مسلمہ کے جسم سے ایک عضو یا متعدد اعضاء کو کاٹ کر پھینک دیا گیا۔ یہ فعل اگر خدا اور رسولؐ کے حکم کے مطابق ہو تو یقینا حق ہے اس صورت میں سڑے ہوئے عضو کو کاٹ کر پھینک دینا ہی اسلام کے ساتھ سچی خیر خواہی ہے لیکن اگر قانون الہی کے رو سے وہ سڑا ہوا نہ ہو محض ظلم سے کاٹ ڈالا  ہو تو ظلم خود اس عضوسے بڑھ کر اس جسم پر ہوگا جس سے وہ کاٹا گیا ہوں       38؎

تمام مسالک  کو حکومتی سطح پر پر برابری کی بنیاد پر رکھنا:

کسی بھی ملک کے اندر مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت وقت کو صرف زبانی کلامی اور کاغذی حد تک نہیں بلکہ واقعی غیر جانب دار ہونا چاہیے۔ اس کا جھکاؤ ،توجہ اور ہمدردیاں کسی مخصوص جماعت یا منظور نظر خوشامدی اور مفاد پرست لوگوں کے بجائے بلا تخصیص و تفریق تمام عوام چاہے وہ کسی بھی فرقے یا مسلک سے ہوں ان کے ساتھ ہونی چاہیے۔تعلیمات نبوت ؐ میں سربراہ مملکت یا خلیفہ کو اپنی ساری رعایا کے ساتھ اسی طرح کی شفقت اور ہمدردی ہونی چاہیے جس طرح ایک باپ کو طبعی طور پر اپنی تمام اولاد کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اسی بات کی مزید وضاحت خلیفہ کی اس تعریف سے ہوتی ہے جو مشہور صحابی حضرت سلمان فارسی نے کی ہے اور جسے سن کر کے حضرت کعب احبار جیسے توراۃوانجیل کےعالم صحابی نے ان کی تصویب فرمائی۔ چناچہ ابو عبید کتاب الاموال میں فرماتے ہیں:

حضرت سلیمان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ خلیفہ وہ ہیں جو کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں اور تمام رعایا پر اس طرح شفقت کرے جس طرح آدمی اپنے اہل و عیال پر شفقت کرتا ہے یہ سن کر کہا اب بن احبار نے کہا : سلمان نے سچ کہا             39؎

لہذا کسی بھی مملکت کے اندر کشیدگی کے ماحول کے خاتمے اور آپس میں امن کی فضا قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سربراہ مملکت کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے یہ تاثر ملتا ہوں کہ وہ وہ کسی خاص فرقے یا مسلک سے سے دوست نوازی کررہا ہے۔کیوں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا سے اصحاب صفہ کو مقدم رکھا تھا۔        40؎

پیغام پاکستان کے دستاویز کی روشنی میں بلوچستان میں مذہبی و مسلکی ہم آہنگی کے لیے اقدامات/سفارشات:

چونکہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے اور اس کے عوام میں دین سے گہری وابستگی موجود ہے اور خاص کر بلوچستان ایک مذہبی سوچ کا حامل صوبہ مانا جاتا ہے اور یہاں کی عوام میں ہر شخص کسی نہ کسی مسلک یا دینی جماعت سے جڑا ہوا ہے ،مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے ہوتے ہوئے چند فروعی یاعالمی مسائل میں اختلاف ایک ناگزیر چیز ہے لہذا

بین المسالک ہم آہنگی کے لیے قانون بناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے کہ اختلافی مسائل کو عوام کی سطح تک لانے والے افراد کے بارے میں بھی قانون سازی کی جائے اور اس سلسلے میں سب سے بہترین چیز اس وقت پیغام پاکستان کی یہ دستاویز ہے کہ جس پر تمام مکاتب فکر کے جید اور سنجیدہ علما متفق تو ہے مگر اب تک قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے اس کی افادیت عام عوام تک نہیں پہنچ رہی۔

بلوچستان کے ماحول کو دیکھتے ہوئے اس پر مزید تحقیق کرکے اس پر قانون سازی  کے ذریعہ یہاں پر اکثر پیش آنے والے مسلکی اختلافات کو  ختم کرنے کیلئےمزید سفارشات مرتب  کی جائے۔

پیغام پاکستان کے دستاویز کی روشنی میں تمام مکاتب فکر کے جید اور سنجیدہ عالمہ کی ایک کونسل بنائی جائے۔

پیغام پاکستان کی سفارشات کی روشنی میں ضابطہ اخلاق بھی بنایا جائے جس میں یہ باتیں خاص طور پر قابل ذکر ہو:

خالص علمی نوعیت کے اختلافی مسائل جن کا اعتقاد و عمل سے کوئی خاص تعلق نہ ہو اور نہ ہی ان پر آخرت کی نجات کا مدار ہے کو عوام تک یا تو لایا ہی نہ جائے اور اگر اس کی ازحد ضرورت ہو تو اس کی اختلافی خصوصیات پر زور نہ دیا جائے جیسا کہ اسی قسم کے ایک مسئلہ میں نزاع کے خاتمے کے حوالے سے” حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ :اولا یہ مسئلہ اور اس جیسے تمام اختلافی مسائل کو عوام میں لایا ہی نہ جائے اور اگر بیان مسئلہ کی نوبت آئے توکو  قدر مشترک پیش کرکےاس کی تفصیلات اور اختلافی خصوصیات  پر زور نہ دیا جائے بلکہ عوام کوان گہری خصوصیات میں پڑنے سے روکا جائے تو کم ازکم عوام میں سے یہ نزاعی صورتیں ختم ہو جائیں گی جو مضر ثابت ہو رہی ہے پھر اگر علماء کی حد تفاصیل میں کچھ اختلاف باقی رہ جائے جس کا عوام سے کوئی تعلق نہ ہو تو گروپ بندی کے مضر اثرات ختم ہو جائیں گے جو فتنہ کے اصل بنے ہوئے ہیں۔          41؎

کسی مسئلہ میں اگر علماء کا اختلاف ہو تو جب تک علماء کونسل بحث و تمحیص کے بعد کسی نتیجے پر نہ پہنچے اس وقت تک اس مسئلے کی اشاعت پر پابندی ہو کیوں کہ اس طرح عوام میں جو علماء کے اختلاف کی حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں ان میں گروپ بندی  کی فضا ہموار ہوتی ہے اور انتشار پیدا ہونے کا شدید خطرہ موجود ہوتا ہے جیسا کہ عصر حاضر میں ایک بلند پایہ فقیہ مفتی رشیداحمد لدھیانوی فرماتے ہیں جس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہو اس کی عام اشاعت جائز نہیں اس لیے کہ عوام اختلاف علماء کو حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں اور حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں،اس سے انتشار پیدا ہوتا ہے جو علماءسی بدظنی کا ذریعہ اور دین سے بیزاری کا سبب بنتا ہے اس لئے اختلافی مسائل کو صرف علما ہی تک محدود رکھنا ضروری ہے اور ان کی اشاعت کے لیے صرف خالص علمی کتابوں تک تحدید لازم ہے۔      42؎

حوالہ جات

1۔محمد طاہر مصطفی، پروفیسر، اصلاح احوال کا آخری حل۔ لاہور، پاکستان مکی دارالکتب، 1998، ص 197

2۔سورہ آل عمران۔64

3۔سورہ البقرہ:143

4۔مفتی محمد شفیع، معارف القرآن، ادارۃ المعارف کراچی، طبع جدید محرم، 1414ھ ، 1993 ملخص1  ،368۔372

5۔صحیح مسلم، کتاب العلم ،باب رافع العلم وقبضہ وظور الجہل و الفتن فی اخر ر،قم الحدیث 28.48، حدیث شریف مرفوع النبی ﷺ

6۔اسلام بیداری انکار اور انتہا پسندی کے نرغے میں، صفحہ 102

7۔سورہ آل عمران، 7

8۔سورہ الحج،40

9۔سید جلال الدین عمری،غیر مسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق، ص251۔

10۔آئینہ حقیقت نما،ج 1، ص99

11۔ڈاکٹر حافظ محمد ثانی، رسول اکرم اور رواداری، فضلی سنز،کراچی، مارچ 1988

12۔ مولانا ظفیرالدین مفتاحی ندوی، اسلام کا نظام امن،کراچی، ایچ ایم سعید کمپنی، 1991،ص137

13۔احمد بن محمد بن حنبل، ،المسند،بیروت،داراحیاء التراث العربی1993،ج7،ص596،رقم 26953

14۔بخاری،محمد بن اسماعیل بن ابراہیم، ابو عبداللہ، الصحیح،بیروت،دارابن کثیر1987،ج1،ص456،رقم 1292

15۔ابن حبان،محمدبن حبان بن احمد،ابو حاتم التمیمی،الصحیح، بیروت،موسسہ الرسالہ 1993ء،ج1،ص336،رقم 128

16۔ابن کثیر،ابولفدااسماعیل،البدایہ والنہایہ، بیروت مکتبہ المعارف، ج7،ص 328

17۔شبلی، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ج 1،ص 300

18۔ مولانا ظفیرالدین مفتاحی ندوی،اسلام کا نظام امن، کراچی، ایچ ایم سعید کمپنی، 1991،ص128

19۔بخاری،محمد بن اسماعیل بن ابراہیم، ابو عبداللہ، الصحیح،بیروت،دارابن کثیر1987،ج1،ص533،رقم 6586

20۔اب قدامہ،عبدالرحمن بن احمد المقدسی،المغنی،بیروت دارالفکر 1495ھ،ج9،ص181

21۔ابو داؤد، سلیمان بن اشعث سجستانی،السنن،بیروت،دارالفکر،1994،ج3،ص108،رقم3052

22۔ابوبکر جصاص،احکام القرآن، بیروت داراحیاء التراث العربی1405ھ،ج4،ص279

23۔سورہ یونس :99

24۔سورہ الحج: 71

25۔مسلم،ج4،ص178،رقم2578

26۔سورہ البقرہ:256

27۔سورہ الانعام:108

28۔بیھقی، شعب الایمان،ج6،ص518،رقم9125

29۔بحوالہ: مصطفٰی سباہی،من روائع حضارتنا،ص 116۔117

30۔سورہ آل عمران64

31۔الازہری،پیرمحمد کرم شاہ،ضیاء القرآن،ج1،،ص239۔240

32۔رفیع الدین ہاشمی،اسلام کا قانون بین الممالک،ترجمان القرآن، اور ج126عددا،ص65

33۔خورشید احمد،پروفیسر، اسلامی نظریہ حیات،شعبہ تصنیف وتالیف،کراچی یونیورسٹی، کراچی 1986،ص508۔509

34۔سورہ العنکبوت 64

35۔https://islamic-content.com/hadeeth/178/ur

36۔سنن ابی داود،ج 1،ص343

37۔مفتی محمد شفیع، شرح عقائد نسفیہ،بحوالہ جواہر الفقہ، ادارہ المعارف کراچی، ج1،ص30

38۔مولانا مودودی، تفہیمات، حصہ دوئم،ص 181 ۔ 182

39۔ابو عبید،کتاب الاموال،ص9

40۔بخاری،کتاب الجہاد،باب الدلیل علی ان الخمس لنوائب رسول اللہ…الخ،ج 1،ص 439

41۔حکیم الاسلام،قاری محمد طیب، خطبات حکیم الاسلام،مکتبہ امدادیہ،ملتان ج7،ص185

42 ۔مولنا مفتی رشید احمد لدھیانوی، جواہر حکمہ، صدپند لقمان،دارالافتاء والارشاد،کراچی،ص 49۔50

1 thought on “METHODS OF RESOLVING INTERFAITH AND INTRA-FAITH TENSIONS IN BALOCHISTAN IN THE LIGHT OF PAIGHAM-E-PAKISTAN.”

  1. حافظ محمد طیّب اسلام آباد

    ماشاءاللہ۔۔حضرت مولانا حافظ محمد طاہر صاحب ایک بھترین نوجوان عالم دین ہیں اور ایک علمی خاندان سے انکا تعلق ہے اللّٰہ تعالیٰ انکو مزید ترقی عطا فرمائے آمین

Leave a Comment

Your email address will not be published.