پاکستانی معاشرے میں منبر ومحراب (علماء) کا کردارو اصلاحی تجاویز

حافظ محمد طاہرؔ

محقق: بلوچستان کونسل فار پیس اینڈ پالیسی

کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم اور بنیادی کردار اس معاشرے کے افراد  کی تربیت اور اصلاح کا ہوتا ہے اور کسی بھی معاشرے کی تعمیر اور ترقی بھی اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب اس معاشرے  کے افراد کی تربیت کا مکمل بندوبست موجود ہو۔اورمعاشرے کی کردار سازی کی ذمے داری اس معاشرے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد پر عائد ہوتی ہے ۔

 ہر معاشرے میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو رہنما کہلاتے ہیں اور ان پر معاشرے کی اصلاح کی ذمے داریاں دوسروں سے زیادہ ہوتی ہیں ۔ اسلامی معاشرے میں بھی ہر فرد اصلاح معاشرہ کا ذمے دار ہے ۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ

الا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ

’’ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی نگہبانی سے متعلق پوچھا جائے گا‘‘

لیکن بدقسمتی سے ہمارے اس معاشرےمیں  ایسا نہیں بلکہ ہمارے یہاں تعلیم و تربیت کا مکمل ذمہ دار استاد کو سمجھا جاتا ہے اور اور باقی تمام ذمہ داران اپنی اس ذمہ داری سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔

اب چونکہ ہمارے ہاں خواندگی کی مقدار کم ہے جس کی وجہ سے کافی سارے لوگ استاد کی تربیت سے محروم رہتے ہیں اور جو استاد کی تربیت سے محروم رہ جائیں ان کیلئے جو دوسرا راستہ رہتا ہے وہ منبر و محراب کا ہی ہے کہ وہاں سے ان کی اصلاح اور تربیت سازی کی جائے ۔

اس طرح بنیادی طور پر ہمارے ہاں  تربیت کے صرف دو اصول ہی ہے ان میں ایک استاد کا کردار اور دوسرا منبر و محراب (یعنی علماء کا کردار ہے )

:استاد کا کردار اور ذمہ داری

اسلامی معاشرے سمیت کسی بھی معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ میں جس فرد کا مرکزی کردار ہے وہ اس معاشرے کا استاد ہے استاد اگر چاہے تو وہ معاشرے کو بدل سکتا ہے،   اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیااستاد ہمارے اس معاشرے کا وہ عظیم سرمایہ ہے کہ جس کی نسبت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی وسلم نے فرمایا :

’’انمابعثت معلما‘‘

(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے )

استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے۔ ابتدائے آفرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہےاسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 ’’انماانا لکم بمنزل و الوالد،اعلمکم‘‘

 (میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)

 امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے۔آپؓ نے فرمایا

’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘

استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔

’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘

معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا گیا ہے۔باپ بچے کو جہاں اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے وہیں استاد بچے کو زندگی میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔

سکندر اعظم سے کسی نے پوچھا کہ وہ کیوں اپنے استاد کی اس درجہ تعظیم کرتا ہے۔سکندر اعظم نے کہا کہ اس کے والدین اسے آسمانوں سے زمین پر لے آئے ہیں جب کہ استاد اس کو زمین سے آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔

زندگی کا کوئی بھی شعبہ خواہ عدلیہ ،فوج،سیاست ،بیوروکریسی ،صحت ،ثقافت،تعلیم ہو یا صحافت یہ تمام ایک استاد کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر مذکورہ شعبہ جات میں عدل ،توازن اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے تو یہ صالح اساتذہ کی تعلیمات کا پرتو ہے اور اگر اساتذہ کی تعلیمات میں کہیں کوئی نقص اور کوئی عنصر خلاف شرافت و انسانیت آجائے تب وہ معاشرہ رشوت خوری ،بدامنی اور فتنہ پروری کی منہ بولتی تصویر بن جاتا ہے۔ استاد کو ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں کلیدی کردار کی انجام دہی کی وجہ سے ہی معمار قوم کا خطاب عطا کیا گیا ہے۔ استاد معاشرے کی عمدہ اقدار کا امین و نگہبان ہونے کے ساتھ ساتھ ان اقدار کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ اساتذہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں اگر ذرہ برابر بھی چوک جائیں تب معاشرہ کی بنیادیں اکھڑ جاتی ہیں اور معاشرہ حیوانیت، نفس پرستی اور مفاد پرستی کی تصویر بن کر جہنم کا نمونہ پیش کرتا ہے۔تعلیم انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر تی ہے اور انسان کو معاشرے کا ایک فعال اور اہم جزو بننے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

استا د کی ذمہ داریاں دیکھی جائیں استاد نسل نو کی تربیت کا اہم کام انجام دیتا ہے۔ہر قوم و مذہب میں استاد کو اس کے پیشے کی عظمت کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔استاد طلباء کو نہ صرف مختلف علوم و فنون کا علم دیتاہے بلکہ اپنے ذاتی کردار کے ذریعہ ان کی تربیت کا کام بھی انجام دیتا ہے۔معاشرے کی زمام کار سنبھالنے والے افراد خواہ وہ کسی بھی شعبے اور پیشے سے وابستہ ہوں اپنے استاد کی تربیت کے عکاس ہوتے ہیں۔استاد کا اہم اور بنیادی فریضہ انسان سازی ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کام میں نصاب تعلیم اور تعلیمی اداروں کے اثرات بھی شامل ہوتے ہیں لیکن یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ پورے تعلیمی نظام کا مرکز و محور ایک استاد ہی ہوتا ہے۔نصاب تعلیم جو بھی لیکن استاد اسے جس طرح چاہے پڑھا سکتا ہے۔ فلسفہ اسلام کی رو سے استاد ایک مربی اور رہنما و رہبر ہوتاہے جو نہ صرف نسل نو کی تربیت کرتا ہے بلکہ نسل نو کو اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی تعلیمی نظریا ت سے وابستہ بھی کرتا ہے۔ کیونکہ نظریہ کے بغیر کوئی بھی قوم حمیت سے عاری بے تربیت افراد کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ مسلم معلمین کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخت وعید ہے

’’جو کوئی بھی مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا پھر ان کے لئے ایسی خیر خواہی اور کوشش نہ کی جتنی وہ اپنی ذات کے لئے کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دیں گے۔‘‘

اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں اگر مسلم اساتذہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ذرہ بھر بھی کوتاہی برتیں گے تو روز قیامت ان کا سخت مواخذہ کیا جائے گا۔ روز قیامت عدم ساز گار حالات ،مادی وسائل کی کمی،والدین اور طلباء کی عدم توجہی و دیگر عذر مسلم اساتذہ کے لئے کسی کام نہیں آئیں گے۔اساتذہ اپنی اہمیت اور ذمہ دار ی کو محسوس کریں خاص طور پر مسلم اساتذہ اپنے مقام کو پہچانے کہ اول تو وہ مسلمان ہیں اور پھر ا سلامی طرز معاشرت اوردین فطرت کے نفاذ کے لئے نئی نسل کو تیار کرنے والے معلم، استاد، مربی او ر رہبر ہیں۔ نامساعد حالات میں بھی مسلم اساتذہ کا منشاء و مقصد نسل نو کی اسلامی تعلیم و تربیت ہوتا ہے۔

آج اسکول ،کالجز، یونیورسٹیز تعلیم کی اصل غرض و غایت سے انحراف کرتے ہوئے مادہ پرستی کے فروغ میں پیش پیش نظر آرہے ہیں۔یہ ادارے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدان، سیاست دان، پروفیسرز، ٹیچرزاور فلاسفرز بنانے میں تو کامیابی حاصل کر رہے ہیں لیکن ایک آدمی کو انسان بنانے میں (جو کہ تعلیم کا اہم مقصد ہے ) ناکام ہورہے ہیں۔ اساتذہ کی ان حالات میں ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ طریقہ تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی کی سعی و کوشش کریں۔مادہ پرست نصاب تعلیم و تعلیمی ادارہ جات میں دانشوری سے وہ افعال انجام دیں جس سے طلباء میں دہریت اور مادہ پرستی جیسے جذبات سر نہ اٹھا سکیں۔ اپنے عمل و کردار سے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو مثبت تعلیمی نظام کی طرف راغب کریں۔ ہنر مندی کے ساتھ دیانت داری اور امانت پسندی کا ایک اعلی نمونہ قائم کریں تاکہ تعلیمی ادارہ جات دھوکے باز سیاست دانو ں کی بجائے باکردار و امانت دار سیاست دان پیدا کریں۔ایسے انجینئر اور ڈاکٹر تیار کریں جو لوگو ں کے علاج کو نہ صرف اپنا ذریعہ معاش بنائیں بلکہ اس خدمت کو عباد ت کے درجہ تک پہنچادیں۔اساتذہ اپنے شاگردوں کی اس طرح تربیت کر یں کہ وہ اپنے پیشوں میں مہارت پیدا کرنے کے ساتھ انسان بھی باقی رہیں۔اساتذہ تعلیمی ادارجات اور نصاب تعلیم کو بلند مقصد حیات اور فکر سازی کے رجحان سے آراستہ کریں۔

نوجوان نسل کی کوتاہیاں اپنی جگہ ،والدین کا تغافل، نصاب تعلیم اور تعلیمی اداروں کی خامیاں بھی اپنی جگہ مگرکار پیغمبری سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اور قوم و ملت کے ایک ذمہ دار منصب پر فائز ہونے کی بناء پر اساتذہ اس بحران کا جائزہ لیں اور خود اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا تعین کریں۔اگراساتذہ سینکڑوں مسائل اور اسباب و علل کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنی کوتاہیوں کا تھوڑا سابھی ادارک کر لیں تب یقینا یہ احساس قوم و ملت کی ترقی کی جانب پہلا قدم ہوگا۔

منبر ومحراب اور علماء کی ذمہ داریاں:

اسلاف اور صحابہ کے دورمیں منبر و محراب ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جہاں سے معاشرے کی اصلاح ہوتی تھی کہ اس مقام سے تجارت و زراعت ،آپس کی لین دین اور دیگر امورکے حوالے سے بھی گفتگو ہوتی تھی اور تمام معاشرتی امور سے متعلق بھی ساری باتیں اس منبرومحراب سے طے  کی جاتی تھی لوگوں کے درمیان اور محبت کے فیصلے بھی یہی ہوتے تھے مطلب یہ کہ مساجد کا منبر ومحراب معاشرے کی اصلاح کے لیے خاص مرکز تھا یہاں سے ملنے والی ہدایت کو من و عن قبول کیا جاتا تھا ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ معاشرتی اصلاح اور کردار سازی میں اس منبرکی خاص حیثیت تھی

اور یہی وجہ تھی کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اذاقلت لصاحبک یوم الجمعۃ انصت والاما م یخطب فقد لغوت

اگر امام کے خطبہ کے دوران آپ نے اپنے ساتھی سے اتنا کہا کہ چپ ہو جاؤ تو آپ نے غلط کام کیا

احادیث مبارکہ سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ منبر و محراب سے نکلی ہوئی بات کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر اہمیت دیں اوراس بات کو کتنے غور اور فکر کے ساتھ کتنی توجہ کے ساتھ سننے کا حکم دیا

منبر و محراب (مسجد) ہی کا ایک اہم اور حساس مقام ہے جہاں سے لوگوں کو ان کی معاشرتی و سماجی مذہبی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے  دورخلافت راشدہ میں اس کی خدمات کافی وسیع تھیں خلیفہ وقت خطاب منبر سے ہی کرتا تھا یہی سے ریاست کی نئی پالیسیوں کے بارے میں رعایا کو آگاہ کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ جب ریاست کی ذمہ داران اس منصب سے دور ہوتےگئے اور خدمات کی وسعت ختم ہوتی چلی گئی تو پھر یہ منبران مذہبی لوگوں کے ذمہ رہ گیا۔

( Leadership Skills)  حالانکہ معاشرے کے وہ لوگ جن میں قائدانہ صلاحتیں موجود ہوتی ہیں انگریزی زبان میں اس

 کہا جاتا ہے ، لیڈر کا عربی ترجمہ امام ہے جو اردو میں بھی مروج ہے اور اسلامی معاشرہ امام کے کردار کے گرد گھومتا نظر آتا ہے ، دراصل امام اپنے علاقے کے اس اسلامی کمیونٹی سینٹر کا ذمے دار ہے جسے اسلامی اصطلاح میں مسجد کہا جاتا ہے، یہ مسجد صرف عبادت کے لیے مخصوص جگہ کا نام نہیں بلکہ مسجد میں عبادات کے ساتھ ساتھ معاشرتی معاملات طے کرنے کا نظام ، تعلیم اور صحت کے پروگرام، امدادی فلاحی سرگرمیوں پر مشتمل سہولیات اور عام معاشرتی مسائل کے حل کے لیے انتظامات موجود ہوں

 ہمارے اس دور میں کئی مساجد کی صورتحال انتہائی ناگفتہ ہے بدقسمتی سے ہمارے یہاں یہاں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے اپنی اپنی مساجد اور اپنے اپنے منبرومحراب مقرر کر دیے ہیں جہاں سے معاشرتی اصلاح کی باتوں کو چھوڑ کر آپس کے فقہی اختلافات مسلکی اختلافات کو شروع کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں اجتماعیت اور اتحاد کی فضا ختم ہوتی جارہی ہے اور معاشرے کے اندر فرقہ واریت مسلکی شدت پسندی  بڑھتی چلی جارہی ہے

یہاں کے منبر و محراب سے مسلک کی باتیں تو بہت زیادہ سننے کو ملتی ہے لیکن دین اسلام کی باتیں بہت کم سامنے آتی ہیں منبر پر بیٹھا شخص دین اسلام کا نہیں بلکہ کسی مسلک کا دفاع کرنے والا سمجھا جاتا ہے ۔ روایتی اختلافی باتیں بار بار دہرائی جاتی ہیں اور عصری مسائل اور مذہبی مسائل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اکثر مساجد میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آپ عوام کو وضو اور نماز کے بنیادی مسائل نہیں پتا لیکن ان کے سامنے بار بار مسلکی اختلافات کے مسائل کو دہرایا جاتا ہے۔ عرب ممالک میں چونکہ خطبہ باقاعدہ تحریر ہے البتہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں منبر و محراب کو کافی آزادی حاصل ہے اور جس آزادی کی وجہ سے کچھ لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور معاشرے میں اصلاح کے بجائے بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ہیں لہذا یہ منصب اہل لوگوں کے پاس ہونا چاہیے جن کی حالات حاضرہ پر گہری نظر ہو اور ایسے علماء نہ ہو جو دینی اور سماجی مسائل پر گفتگو نہ کر سکے اور مسلکی اختلافات کو ہوا دے اور اس سلسلے میں عام عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو کسی بہتر ذمہ دار کے حوالے کرے

چند تجاویز

 منبر و محراب سے تعمیری بات ہو مساجد کو مسلکی اختلافات اور مختلف مسلک کی رائے سے دور رکھا جائے تاکہ مسجد کے ذریعے سے علاقے کے لوگوں میں اتحاد اور اتفاق قائم ہو اورمعاشرے کی اصلاح کا مقصد یہاں سے حاصل ہوسکے ۔

کوشش کی جائے کہ منبر و محراب کے لئے اہل افراد کا انتخاب کیا جائے اور اس کے اس منصب کی عظمت اور رفعت کو دیکھتے ہوئے ایسے عالم دین کاانتخاب کیا جائے جو مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو اور اپنے ان مسلکی اختلافات سے عوام کو دور رکھے اور ان کے درمیان اتحاد کی تعلیمات کو عام کرے کیوں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے اندر حضرت ابوبکر صدیق  جوہرچیز کو بخوبی افہام و تفہیم سے جانتے تھے انہیں اس منصب پر مقرر فرمایا لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسے افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کی تعلیمی استعداد ہو یا نہ ہو مگر اس کی کوئی خاص خوبی دیکھی جاتی ہے مثلا کو تنخواہ کم لیتا ہے تو اس لالچ کو دیکھتے ہوئے اہل مساجد ایسے لوگوں کا انتخاب کر لیتے ہیں جو بعد میں معاشرے کی کے لیے فساد کا سبب بنتا ہے

بہتر یہ ہو کہ جس علاقے میں قریب قریب چھوٹی چھوٹی مساجد ہیں ہر مسجد میں نماز جمعہ ہونے کے بجائے ایک بڑے مقام پر ایک بڑی جامع مسجد کے اندر سب لوگ جمع ہو کر اکٹھے نماز جمعہ ادا کرلیں( ان علاقوں کے اندر جہاں مساجد قریب ہے )تاکہ سب لوگ ایک جگہ جمع ہوں گے اور ایک جگہ سے ان کو جو بات بتائی جائے گی وہ سب کے لئے قابل عمل ہو گئی

ضروری نہیں کہ مسجد کے اندر سے خطیب ہی خطاب کرے اگر حکومت یا ریاست کا کوئی فرد عوام کی اصلاح سے بہتر انداز میں کر سکتا ہے اور اتنا علم رکھتا ہے تو بہتر ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں اور ریاست کے حکم کے مطابق ویسی بات بیان کریں جس سے عام عوام اور ریاست کا بہترین فائدہ ہو سکے ۔

@HTahirRasheed

5 thoughts on “پاکستانی معاشرےمیں منبرومحراب(علماء)کاکردارواصلاحی تجاویز”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *